’یہ شام پھر نہیں آئے گی‘

وقت اشاعت

پاکستانی کوہ پیما سعد محمد نے اپنے ساتھیوں جمشید اختر اور سید محمد جواد کے ہمراہ پہاڑی علاقے مالی کا پربت کی مہم جوئی کے دوران لی گئی یہ خوبصورت تصاویر بھیجیں۔

ناران

،تصویر کا ذریعہSaad Mohammad

،تصویر کا کیپشنوادی ناران میں بٹاکنڈی کے مقام پر لوگ موسم سرما کے پیش نظر اپنے گھروں کو چھوڑ کر میدانی علاقوں کی طرف کوچ کر جاتے ہیں، اور ہر طرف ہو کا عالم طاری ہوتا ہے۔ ہم تین کوہ نوردوں کا ٹولا پہلے دن جب چل چل کر تھک گیا تو ایک گاؤں نظر آیا۔ گاؤں میں گھر بھی تھے، دور نیچے ایک بہتی ندی بھی تھی، آسمان پر بادل بھی منڈلا رہے تھے لیکن ہمارا استقبال کرنے والا کوئی نہ تھا۔
ناران

،تصویر کا ذریعہSaad Mohammad

،تصویر کا کیپشنپہاڑی علاقوں میں موسم سرما میں ہر رنگ پھیکا اور ماند پڑ جاتا ہے۔ جیسے کہ خزاں نے اس میں سے زندگی نکال لی ہو۔ ایسے میں دل کو بہلانے کے لیے شوخ اور کھٹے رنگ پہن لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ مہم جو دور سے ساتھیوں کو نظر آ جاتا ہے اور یہ رنگوں کا امتزاج کیمرے کی آنکھ کو خوب بھاتا ہے۔
ناران

،تصویر کا ذریعہSaad Mohammad

،تصویر کا کیپشنناران میں جھیل سیف الملوک تو ہر کوئی چلا جاتا ہے اور لوگ تو سردیوں میں بھی وہاں کا چکر لگا آتے ہیں لیکن مالی کا پربت کے اس پار دادر میدان کی طرف جانے والے اس وادی میں شاید ہی کوئی اس سے پہلے شدید سردی کے موسم میں آیا ہو۔ راستہ تو دشوار ہے ہی لیکن دھوپ اور چھاؤں بھی عجب کھیل کھیل رہے ہیں۔ ہر چیز منجمد ہے، جیسے ٹھنڈ سے نہیں بلکہ وقت کے اس لمحے میں منجمد ہو۔
ناران

،تصویر کا ذریعہSaad Mohammad

،تصویر کا کیپشنمہم جوئی کے تیسرے دن دادر میدان سے نکلے اور ایک برفانی نالے کا رخ کیا۔ اس نالے کے ساتھ چلتے چلتے ہم چوٹی کے شمالی بیس کیمپ تک پہنچے۔ راستے میں مسلسل چڑھائی تھی اور ہم تھکن سے چور تھے، لیکن پیچھے مڑ کر جب دیکھا تو برف سے ڈھکی وادی اور سرن چوٹیوں کا خوبصورت جھرمٹ دیکھ کر جیسے رگوں میں ایک نئی جان سی آگئی۔
ناران

،تصویر کا ذریعہSaad Mohammad

،تصویر کا کیپشنبیشتر کوہ پیما لوگ درویش صفت ہوتے ہیں، چڑھنے ہم پہاڑ آئے تھے اور مل ہمیں شکار گیا۔ پر نہ تو شکار کا ارادہ تھا اور نہ ہی تیاری۔ پہلی دفعہ معلوم ہوا کہ آئبیکس نسل کے پہاری بکرے مالی کا پربت کے گرد و نواح میں بھی پائے جاتے ہیں۔ آئبیکس کا ایک بڑا ریوڑ اونچی چٹانوں کے دامن میں خزاں کے رنگوں سے لال ریوند کے بیچ میں گھاس اور جڑی بوٹیاں چرنے میں محو تھا۔ بڑی خاموشی سے گھات لگا کر ان کی تصویر کشی کی لیکن جیسے ہی ہم چھوٹی چٹانوں کی اوٹ سے باہر نکلے یہ پھرتیلے جانور اونچی چٹانوں پر اوپر ہی اوپر بھاگ نکلے۔
ناران

،تصویر کا ذریعہSaad Mohammad

،تصویر کا کیپشنجب ہمارا پالا آئبیکس کے ریوڑ سے پڑا تو ایک اور عجیب بات دیکھنے کو ملی۔ کہنے کو تو یہ جنگلی بلکہ پہاڑی جانور ہے لیکن ان کے ہاں بھی لیڈیز کلب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس تصویر میں آپ کو چھ مادہ آئبیکس نظر آ رہی ہیں اور ایک بھی نر آس پاس نہیں ہے۔ گویا جب کسی درندے یا شکاری کا ڈر نہ ہو تو آئبیکس بھی پردے اور حقوق نسواں کا خاص خیال رکھتے ہیں۔
ناران

،تصویر کا ذریعہSaad Mohammad

،تصویر کا کیپشنہم کوہ پیما لوگ بھی بڑے شرمیلے ہیں۔ سیلفی بھی ٹھیک سے نہیں لیتے، ہر چیز ڈھکی ہوئی ہے حتیٰ کہ ناک پر بھی حفاظتی چمڑا منڈھ رکھا ہے۔ اگرچہ جیکٹ سے میچنگ ہے پر اس کا مقصد آپ کا دیہان دادر میدان کی خوبصورتی سے ہر گز ہٹانا نہیں ہے۔
ناران

،تصویر کا ذریعہSaad Mohammad

،تصویر کا کیپشنمہم کے تیسرے دن سطحِ سمندر سے لگ بھگ 3200میٹر کی بلندی سے سفر شروع کیا اور شام کو سورج ڈھلنے سے پہلے پہلے تقریباً 3700 میٹر پر جا کر خیمہ زن ہوئے۔ راستہ دشوار تھا اور دور دور تک کوئی نہیں تھا۔ ایسے میں یخ بستہ ہواؤں نے ہم سے سرگوشیاں کیں اور بادلوں کو موڑ کر ہمیں راستے کی نشاندہی کراتی رہیں۔
ناران

،تصویر کا ذریعہSaad Mohammad

،تصویر کا کیپشنتیسے دن کی شام کو لگ بھگ 3700 میٹر پر پڑاؤ ڈالنے کے بعد ارد گرد کا جائزہ لیا۔ سورج غروب تو مغرب میں ہوا لیکن اس کی ڈوبتی لال کرنوں کا عکس جنوب مشرق میں پھرکی کھاتے ہوئے بادلوں پر نجانے کتنی دیر پڑتا رہا۔ میں چائے پی کر کچھ دیر باہر بیٹھ گیا اور اس نظارے کو دیکھ کر زیر لب وائٹل سائنز کا یہ گانا آگیا، ’یہ شام پھر نہیں آئے گی۔‘
ناران

،تصویر کا ذریعہSaad Mohammad

،تصویر کا کیپشنپہاڑوں پر جیسے جیسے بلندی چڑھتے جاتے ہیں ویسے ویسے سانس لینا دشوار ہوتا جاتا ہے لیکن 3700 میٹر کی اونچائی پہ میں بہت ہشاش بشاش تھا۔ رات دیر تک بیٹھا خود سے گنگناتا رہا، سوپ پیا، کافی پی پھر چائے بھی پی لیکن طبیعت ذرا سی بھی بوجھل نہ ہوئی۔ صبح بھی آنکھ مناسب وقت پر کھل گئی اور میں کی یادگار تصویر کھینچنے باہر نکل آیا۔