اصلیت سے دور امریکی صدور کے مومی مجسمے

کلنٹن

،تصویر کا ذریعہTwitter

وقت اشاعت

امریکی کے صدر اور اور ان کی بیگمات کے اصلیت سے دور مومی مجسمے بنانے والا ایک عجائب گھر لوگوں کی عدم دلچسی کے باعث بند ہو رہا ہے۔

امریکی ریاست پینسلوینیا کے شہر گیٹسبرگ میں واقع 'دی ہال آف پریزیڈنٹس اینڈ فرسٹ لیڈیز' عجائب گھر کا آنے والے لوگوں کے لیے پیغام ہے کہ 'آئیں اور دیکھیں کہ ہمارے صدر حقیقت میں کیسے لگتے ہیں۔'

لیکن وہ لوگ جو ان مجسموں کو دیکھ چکے ہیں وہ شاید جانتے ہیں کہ یہ دعویٰ حقیقت سے کچھ دور ہے۔

obama

،تصویر کا ذریعہTwitter

ساٹھ سال تک لوگوں کو محظوظ کرنے کے بعد پچھلے سال نومبر میں یہ عجائب گھر بند ہو گیا اور اب وہاں رکھے ہوئے مجسموں کو نیلامی کے لیے پیش کر رہا ہے۔

بطور واحد سیاہ فام امریکی صدر ہونے کے ناطے براک اوباما کو پہچاننا شاید دشوار نہ ہو۔

اوباما

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہمیں علم نہیں کہ انھوں نے اپنا یہ مجسمہ دیکھا ہے لیکن ہمارا خیال ہے کہ ان کا رد عمل کچھ ایسا ہو۔

مشیل

،تصویر کا ذریعہAdam C

اور سچ سچ بتائیں، اگر ہم نے آپ کو نہیں بتایا ہوتا تو کیا آپ مشیل اوباما کے اس مجسمے کو پہچان لیتے؟

clinton

،تصویر کا ذریعہTwitter

یہ مجسمہ آپ کو شاید ہالی وڈ کے فنکار جان ٹریوولٹا کی یاد دلائے لیکن درحقیقت یہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن ہیں جو 1993-2001 تک صدر رہے تھے۔

hillary

،تصویر کا ذریعہTwitter

یہاں ہلیری کلنٹن کا بھی مجسمہ ہے جو حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ سے امریکی صدارتی انتخاب میں ہار گئی تھیں۔

bush

،تصویر کا ذریعہTwitter

اس عجائب گھر میں سابق صدر جارج ڈبلیو بش کا بھی مجسمہ ہے۔

اور یہ ہے صدر ابراہم لنکن کا مجسمہ، جس میں ان کی داڑھی کی کافی حقیقی مشابہت ہے۔

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

افسوس اس بات کا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا مجسمہ بننے سے پہلے یہ عجائب گھر بند ہو گیا۔