boycottunileverhindustan# کیوں ٹرینڈ کررہا ہے؟

یونی لیور ہندستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنیونی لیور ہندستان کا شمار انڈیا کی گھریلو مصنوعات بنانے والی بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔
    • مصنف, غضنفر حیدر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 2 منٹ

انڈیا میں گھریلو مصنوعات بنانے والی کمپنی یونیلیور ہندوستان کے ٹوئٹر پر ایک ایڈ پوسٹ کرنے کے بعد کمپنی کے خلاف #boycottunileverhindustan کا ہیشٹیگ شروع ہوگیا ہے۔

یونیلیور ہندوستان نے اپنی اس ٹوئیٹ میں بروک بانڈ ریڈ لیبل چائے کا ایڈ دیا تھا جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ ایک نوجوان آدمی اپنے بوڑھے والد کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ اس کے والد پیچھے سے اسے پکارتے رہتے ہیں لیکن وہ پلٹ کر نہیں آتا۔

کچھ دیر بعد وہ اپنی عمر کے ایک باپ کو دیکھتا ہے جو اپنے بچے کو گم ہونے سے روکنے کے لیے اسے خود سے باندھ رہا ہے۔ نوجوان کو شرم آتی ہے اور وہ واپس اپنے والد کے پاس جاتا ہے جو وہاں بیٹھے اطمینان کے ساتھ بروک بانڈ چائے پی رہے ہیں اور اپنے بیٹے کا انتظار کررہے ہیں۔

ایڈ کے اختتام پر لکھا ہوا آتا ہے کہ' کمبھ میلہ وہ جگہ ہے جہاں بزرگوں کو اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ کیا یہ دکھ کی بات نہیں ہے کہ ہم اپنے بڑوں کاخیال نہیں رکھتے؟ ریڈ لیبل ہمیں ان لوگوں کا ہاتھ پکڑنے کی ہمت افزائی کرتا ہے جنھوں نے ہماری زندگی بنائی۔ دل خوش کرنے والی یہ ویڈیو دیکھیے۔ اس میں آنکھیں کھول کر رکھ دینے والی ایک تلخ حقیقت ہے۔'

یہ پیغام نہ صرف ویڈیو کے آخر میں آتا ہے بلکہ ویڈیو پوسٹ کرتے وقت ٹوئیٹ میں بھی یونی لیور نے یہی پیغام لکھا۔ تاہم صارفین کی طرف سے شدید تنقید کے بعد یونی لیور کو اپنی ٹوئیٹ ڈیلیٹ کرنا پڑی۔

یونی لیور ہندستان

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنارفین کی طرف سے شدید تنقید کے بعد یونی لیور ہندستان کو اپنی ٹوئیٹ ڈیلیٹ کرنا پڑی

اس ایڈ میں دیے گئے ’مثبت‘ پیغام کے باوجود ٹوئٹر پر لوگوں نے ناراضگی کا اظہار کیا اور #boycottunileverlhindustan نے ٹرینڈ کرنا شروع کردیا۔

ہندوستان میں ہر 12 سال بعد منعقد ہونے والا کمبھ میلہ دنیا کا سب سے بڑا تہوار ہے۔ اس میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ شرکت کرتے ہیں۔انڈیا میں بہت عرصے سے اس میلے میں نوجوانوں پر اپنے والدین کو چھوڑ جانے کے واقعات دیکھنے میں آئے ہیں اور اس پر مقامی میڈیا میں بحث بھی ہوئی ہے۔ کمبھ میلہ ہندو تہورا ہونے کی وجہ سے یہ ایک حساس موضوع ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

ایک صارف نے لکھا 'کچھ ماہ قبل کولگیٹ نے لو جہاد کیمپین شروع کی اور اب ریڈ لیبل کہتا ہے کہ ہندو اپنے والدین کو کمبھ میلے میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ یا تو ہندستان یونی لیور نے ایک ایسا کسٹمر بیس ڈھونڈا ہے جو اس طرع سوچتا ہے یا پھر اقتصادی بائیکاٹ ہم ہندوؤں کے بس کا نہیں۔'

اس ٹرینڈ کو انڈیا کے میڈیا اداروں نے بھی اپنی خبروں کا حصہ بنایا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا، انڈیا ٹوڈے اور این ڈی ٹی وی جیسے اداروں نے اپنی ویب سائٹ اور ٹوئٹر پر اس خبر کو شائع کیا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2