جیلوں میں قید بے گناہ افراد کو معاوضہ دیا جائے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے سینیٹ میں ایک بل متعارف کروایا گیا ہے جس میں ملک کی جیلوں میں مختلف سنگین مقدمات میں عرصہ دارز سے قید افراد کو بے گناہ ہونے کی صورت میں سرکار کی جانب سے معاوضہ دینے کے بارے میں کہا گیا ہے۔
یہ بل پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کی جانب سے پیر کو پیش کیا گیا۔
اس بل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مختلف جیلوں میں ہزاروں ایسے افراد ہیں جن کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے گئے اور عرصہ دارز سے ان کے مقدمات ماتحت عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس بل کے بارے میں بات کرتے ہوئے سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ ماتحت عدالتوں کے بعد چاروں صوبوں کی ہائی کورٹس میں بھی قتل جیسے سنگین مقدمات میں گرفتار کیے گئے ہزاروں افراد سے متعلق بھی انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔
انھوں نے کہا کہ ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ چھوٹے جرائم میں ملوث افراد کے مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کی وجہ سے وہ افراد سزا سے زیادہ عرصہ جیل میں گزار دیتے ہیں جو جرم انھوں نے سرزد کیا ہوتا ہے۔
پاکستان کی مختلف جیلوں میں ایسے قیدیوں کی تعداد نو ہزار کے قریب ہیں جنھیں مختلف ماتحت عدالتوں سے موت کی سزا سنائی جاچکی ہے۔ ان کی اپیلیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔
پاکستان میں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جن میں سپریم کورٹ نے قتل جیسے سنگین مقدمات میں ملوث افراد کو بےگناہ قرار دیا جبکہ جیل حکام نے صرف ہائی کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے انھیں پھانسی دے دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ جس طرح پوری دنیا میں کریمینل جسٹس سسٹم کے تحت مختلف عدالتوں سے بےگناہ قرار دیے جانے والے افراد کو حکومت کی جانب سے معاوضہ ادا کیا جاتا ہے اسی طرح پاکستان میں بھی ایسے افراد کو معاوضہ دیا جائے تاکہ ایسے افراد کی کسی حد تک دادرسی کی جاسکے۔
حکومت نے اس بل کی مخالفت نہیں کی جس کے بعد سینیٹ کے چیئرمین نے یہ معاملہ متعقلہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔
سینیٹ کے اجلاس میں جادوگری کی ممانعت کا بل بھی پیش کیا گیا۔ یہ بل حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے سینیٹر چوہدری تنویر خان کی جانب سے پیش کیا گیا۔
اس بل کے بارے میں بات کرتے ہوئے چوہدری تنویر کا کہنا تھا کہ پاکستانی معاشرے میں یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ سفلی عمل کرنے والے لوگ بہت زیادہ ہیں۔
چوہدری تنویر نے کہا کہ ٹی وی چینلز نے ایسے متعدد افراد کو بے نقاب کیا ہے لیکن یہ عمل صرف چند دن تک رکتا ہے اس کے بعد دوبارہ شروع ہوجاتا ہے۔
انھوں نے کہا 'شادی نہیں ہو رہی یا بیروزگاری سے چھٹکارا یا محبوب آپ کے قدموں میں جیسے فقروں سے دیواریں بھری پڑی ہیں۔'
حکمران جماعت کے سینیٹر کے مطابق مختلف مقامات پر جو بنگالی بابا یا اور جو بھی بیٹھے ہیں ان کے لیے مناسب قانون سازی ہونی چاہیے۔




















