پی ٹی ایم: حکومت سے مذاکرات کی دعوت پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، محسن داوڑ

،تصویر کا ذریعہMOHSIN DAWAR
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
پشتون تحفظ موومنٹ اور حکومتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا تاحال آغاز نہیں ہو سکا، تاہم پی ٹی ایم کے قائدین کا کہنا ہے کہ چند روز میں مذاکرات کے لیے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
رکن قومی اسمبلی اور پی ٹی ایم کے رہنما محسن داوڑ نے کہا ہے کہ اس مرتبہ وہ پہلے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ حکومتی کمیٹی کے پاس مذاکرات اور پھر فیصلوں پر عمل درآمد کا اختیار کس حد تک ہے۔
پی ٹی ایم کے قائدین ایک دو روز میں فیصلہ کریں گے جس میں حکومتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے ایجنڈا اور کسی متفقہ تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے

حکومت کی جانب سے پہلے مذاکرات کے لیے 26 مارچ کی تاریخ کا اعلان کیا گیا تھا لیکن پی ٹی ایم کے رہنما ارمان لونی کے چہلم کے حوالے سے 31 مارچ کو جلسہ عام کی وجہ سے مذاکرات کا آغاز نہیں ہو سکا۔ پی ٹی ایم کے قائدین کا کہنا تھا کہ قائدین باہمی مشاورت کے بعد لائحہ عمل کا اعلان کریں گے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محس داوڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے اور اس پر وہ سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔
ان سے جب پوچھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات پہلے بھی شروع ہوئے تھے لیکن وہ کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ پائے تھے تو ان کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی میں کچھ قبائلی رہنما بھی شامل تھے لیکن کمیٹی کے پاس کوئی اختیارات نہیں تھے تو وہ سلسلہ آگے نہیں چل سکا تھا۔
انھوں نے کہا کہ موجودہ کمیٹی سے وہ یہ بھی پوچھیں گے کہ کمیٹی کے پاس فیصلے کا کتنا اختیار ہے اگر کمیٹی کے پاس اختیار نہیں ہے تو پھر مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
محسن داوڑ نے کہا کہ ان کے مطالبات اپنی جگہ پر موجود ہیں جن میں قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر جو حالات پیدا ہوئے، لاپتہ افراد اور دیگر لوگوں کے مسائل شامل ہیں۔
پشاور میں 31 مارچ کو فروری میں پی ٹی ایم کے رہنما ہلاک ہونے والے رہنما ارمان لونی کے قتل کے خلاف ایک بڑا جلسہ عام منعقد کیا گیا تھا جس میں قائدین نے ایک مرتبہ پھر اپنے مطالبات دہرائے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گذشتہ ماہ گورنر ہاؤس پشاور میں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے منتخب نمائندگان اور قبائلی رہنماؤں کا اجلاس منعقد ہوا جس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ پی ٹی ایم کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کے لیے منتخب نمائندگان کے ذریعے رابطہ کیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں منتخب اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹرز پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کے بعد قبائلی علاقوں کے لیے صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر نے گزشتہ ماہ ایک کانفرنس میں کہا تھا کہ پی ٹی ایم کے مطالبات اور ان ناراض نوجوانوں کے گلے شکوے سننے کے لیے وہ تیار ہیں۔
پی ٹی ایم اور حکومت کے درمیان اس سے پہلے بھی مذاکرات شروع کیے گئے تھے اور پشاور کے حیات آباد کے علاقے میں قبائلی رہنما الحاج شاہ جی گل اور دیگر کے ہمراہ بعض مسائل پر بات چیت ہوئی تھی۔
مذاکرات کا یہ سلسلہ اس وقت رک گیا تھا جب پی ٹی ایم کے رہنماؤں نے یہ کہا تھا کہ حکومتی کمیٹی کے پاس فیصلہ سازی کا کوئی اختیار ہی نہیں ہے۔























