اسلام آباد : ہائیکنگ کے لیے جانے والی تین غیر ملکی لڑکیوں کو ہراساں کیے جانے کا واقعہ، دو ملزم گرفتار

POLICE

،تصویر کا ذریعہ@DigIslamabad

    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، آسلام آباد
  • وقت اشاعت

سنیچر کی صبح اسلام آباد کے مضافاتی پہاڑی علاقے میں تین غیر ملکی لڑکیوں کو اس وقت ہراساں کیا گیا جب وہ وہاں چہل قدمی اور ہائیکنگ کر رہی تھیں۔ پولیس نے ہراساں کرنے والے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

شام پانچ بجکر 32 منٹ پر ٹوئٹر پر یہ خبر سامنے آئی اور آدھے گھنٹے بعد ڈی آئی جی اسلام آباد کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بتایا گیا کہ ’تین غیر ملکی لڑکیاں سنیاڑی جنگل میں گئیں اور راستہ بھول گئیں۔ تین افراد نے لڑکیوں کو ہراساں کیا، مزاحمت پر تینوں افراد موقع سے فرار ہوگئے‘۔

پولیس نے اطلاع ملتے ہی جنگل سے لڑکیوں کو بحفاظت تلاش کرلیا اور کہا کہ پولیس ٹیمیں سرچ آپریشن کر رہی ہیں اور ’جلد ملزمان پولیس کی گرفت میں ہوں گے‘۔

رات نو بجے ڈی آئی جی نے اس پولیس آپریشن کو لیڈ کرنے والی اے ایس پی عائشہ گل اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا اور کہا ’ویل ڈن عائشہ‘ اور ساتھ ہی یہ اطلاع بھی دی کہ مبینہ طور پر لڑکیوں کو ہراساں کرنے والے دو لڑکے گرفتار کر لیے گئے ہیں۔

police

،تصویر کا ذریعہ@DigIslamabad

واقعہ کب اور کہاں پیش آیا؟

اس واقعے کی تفصیلات اور لڑکیوں کی بحفاظت بازیابی اور خیریت کے بارے میں جاننے کے لیے بی بی سی نے اے ایس پی عائشہ سے رابطہ کیا۔

انھوں نے بتایا کہ چار غیر ملکی لڑکیاں پی اے ایف کے پاس ہائیکنگ روٹ ٹریل 6 پر صبح آٹھ بجے گئیں اور سنیاڑی گاؤں کے پاس انھوں نے گاڑیاں پارک کیں۔ اے ایس پی نے بتایا کہ دو گھنٹوں کی ہائیک کے بعد چار میں سے ایک لڑکی واپس نیچے آگئی کیونکہ اس کی طبیعت خراب ہو رہی تھی۔

’باقی تینوں لڑکیاں مزید آگے بڑھ گئیں۔ بیچ میں ایک گاؤں آتا ہے سندوری کے نام سے، وہاں تین لڑکوں نے ان کا پیچھا کرنا شروع کیا۔ انھوں نے ان کو چھیڑا اس پر ان کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ ایک لڑکی اس گاؤں کی جانب بھاگ گئی اور باقی دو کی لڑکوں کے ساتھ ہاتھا پائی جاری رہی۔ گاؤں چونکہ ساتھ ہی تھا اس لیے گاؤں کے لوگ بھی فوراً وہاں پر آ گئے۔ وہ دونوں لڑکیاں مزید آگے کی جانب بھاگ گئیں تھیں۔‘

اے ایس پی عائشہ کے مطابق لڑکیوں نے اپنی سکیورٹی ٹیم کو واقعے کی اطلاع دی جنھوں نے پولیس سے ون فائیو پر رابطہ کیا۔

لڑکیاں کہاں ہیں اور ان کا کیا کہنا ہے؟

اے ایس پی عائشہ کا کہنا ہے کہ ’تینوں لڑکیاں بالکل ٹھیک تھیں، نارمل تھیں۔ انھیں ہاتھا پائی کے دوران بھی کوئی چوٹ نہیں آئی نہ ہی وہ زخمی ہوئیں‘۔

’بالکل ٹھیک تھیں، کسی کو کوئی زخم وغیرہ نہیں آیا۔ا نھوں نے مجھے پورا واقعہ بتایا، وہ نارمل تھیں اور کسی قسم کے ٹراما میں نہیں تھیں۔‘

وہ بتاتی ہیں ’میں نے ان سے پوچھا کہ کیا کبھی پہلے اسلام آباد میں چہل قدمی کرتے، ہائیکنگ کرتے اس طرح کے کسی واقعے کی اطلاع موصول ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ اس نوعیت کا کوئی واقعہ کبھی پیش نہیں آیا۔

’ایسا واقعہ پہلے کبھی پیش نہیں آیا۔ لیکن میں یہ کہوں گی کہ لوگوں کو انھی راستوں سے جانا چاہیے جو انتظامیہ کی جانب سے بنائے گئے ہیں۔ ‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’ویسے تو ٹریل 6 کا راستہ فیصل مسجد کی جانب سے جاتا ہے لیکن یہ چاروں لڑکیاں پی اے ایف کیمپ کے راستے گئی تھیں لیکن حیرانی کی بات تھی کہ پی اے ایف والوں نے بھی ان سے نہیں پوچھا کہ آپ کون ہیں اور کہاں جا رہی ہیں۔‘

اے ایس پی عائشہ کا کہنا ہے کہ تینوں خواتین اپنی رہائش گاہ پر چلی گئی ہیں اور انھیں ان کی جانب سے کوئی درخواست نہیں کی گئی جبکہ دو ملزم پولیس کی حراست میں ہیں اور تیسرے کی تلاش جاری ہے۔