معاہدے کے باوجود روہنگیا مسلمانوں کی نقل مکانی مسلسل جاری ہے: اقوام متحدہ

روہنگیا

،تصویر کا ذریعہAFP

وقت اشاعت

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کی بنگلہ دیش نقل مکانی مسلسل جاری ہے حالانکہ گذشتہ ماہ میانمار اور بنگلہ دیش کے درمیان روہنگیا مسلمانوں کو میانمار واپس بھیجنے کا معاہدہ طے پا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کیے پناہ گزینوں کی ڈپٹی ہائی کمشنر کیلی کلیمنٹس کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کے ملک چھوڑ کر جانے کا عمل سست ضرور ہوا ہے لیکن پھر بھی یہ اس وقت دنیا کے پناہ گزینوں کا سب سے بڑا بحران ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کیلی کلیمنٹس نے کہا ہے کہ زیادہ تر روہنگیا مسلمانوں کے لیے واپس جانے کو کچھ نہیں ہے کیونکہ ان گاؤں تباہ کر دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

خیال رہے کہ روہنگیا مسلمان بے وطن اقلیت ہیں جنھیں عرصہ دراز سے میانمار میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔

اگست میں میانمار کی ریاست رخائن میں شروع ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد چھ لاکھ سے زیادہ افراد نے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں نقل مکانی کی تھی۔

روہنگیا

،تصویر کا ذریعہAFP

تاہم گذشتہ ماہ نومبر میں بنگلہ دیش نے میانمار کے ساتھ ایک معاہدہ طے کر لیا تھا جس کے مطابق میانمار میں فوجی کارروائی کے دوران ہزاروں کی تعداد میں نقل مکانی کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کو واپس بھیجا جائے گا۔

بنگلہ دیش کا کہنا تھا کہ یہ پہلا قدم ہے جبکہ میانمار نے کہا تھا کہ وہ روہنگیا کو ’جلد از جلد‘ واپس لینے کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب اس معاہدے کے بعد امدادی اداروں نے روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کی ضمانت کے بغیر ان کی زبردستی واپسی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا تھا۔

امریکی سیکریٹری خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا تھا کہ میانمار کی اقلیتی آبادی روہنگیا کے خلاف فوجی کارروائی نسل کشی پر مشتمل ہے۔

روہنگیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبنگلہ دیش سے روہنگیا افراد کی واپسی کا عمل کب شروع ہوگا، یا میانمار کی جانب سے واپسی کی شرائط کیا ہیں، یہ واضح نہیں ہے

میانمار کی فوج نے روہنگیا افراد کے قتل، ان کے دیہات کو نذرآتش کرنے، خواتین اور لڑکیوں کے ریپ اور لوٹ مار کی تردید کی تھی۔

یہ دعوے بی بی سی نامہ نگاروں کی جانب سے دیکھے گئے شواہد کے منافی ہیں اور اقوام متحدہ کی جانب سے بھی اسے نسل کشی قرار دیا جا چکا ہے۔

بنگلہ دیش سے روہنگیا افراد کی واپسی کا عمل کب شروع ہو گا، یا میانمار کی جانب سے واپسی کی شرائط کیا ہیں، یہ واضح نہیں ہے۔

تاہم دونوں ممالک اس مسئلے کی وجہ سے مختلف وجوہات کی بنا پر دباؤ میں ہیں۔