دنیا کی ’سب سے وزنی‘ خاتون چل بسیں

،تصویر کا ذریعہSaifee Hoospital
مصر سے تعلق رکھنے والی دنیا کی سب سے وزنی سمجھی جانے والی خاتون متحدہ عرب امارات میں انتقال کر گئی ہیں۔
اسی سال 37 سالہ ایمان احمد العبدالآتی کو ایک خصوصی طیارے کے ذریعے ممبئی لے جایا گیا تھا جہاں سیفی ہسپتال میں ان کا وزن کم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا۔
متحدہ عرب امارات کے ذرائع ابلاغ کے مطابق انڈیا میں آپریشن سے ان کا وزن پانچ سو کلوگرام سے کم کر کے تین سو کلوگرام کر دیا گیا تھا، تاہم ان کی موت ان کے جسم میں دیگر پیچیدگیوں کی وجہ سے ہوئی ہے۔
ہسپتال کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 37 سالہ ایمان کو دل اور گردوں کے امراض کا سامنا بھی تھا۔ ہپستال کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم ایمان کے خاندان والوں سے دلی تعزیت کرتے ہیں اور ان کے لیے دعا کرتے ہیں ۔‘
انڈیا میں آپریشن کے بعد اس سال مئی میں ایمان احمد کو ابو ظہبی کے ایک ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا تھا۔
آپریشن سے پہلے اُن کے خاندان والوں کا کہنا تھا کہ ایمان 25 سال سے گھر سے باہر نہیں نکلی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہSaifee Hospital
ایمان احمد کو ایک چارٹر طیارے کے ذریعے انڈیا لیجانے کے اخراجات کے لیے ان کی بہن نے انٹرنیٹ پر لوگوں سے مدد کی درخواست کی تھی جس کے جواب میں بہت سے لوگوں نے ان کی مالی مدد کی تھی۔ لیکن ان کے خاندان اور ممبئی کے ہسپتال کی ٹیم کے درمیان جھگڑے کے بعد انھیں واپس بلا لیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایمان کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ ہپستال کے سرجنوں نے وزن کم کرنے کے جو دعوے کیے تھے وہ غلط تھے۔
بیرائیٹراک سرجری، جسے عرف عام میں وزن کم کرنے کا آپرشین کہا جاتا ہے، صرف ان مریضوں کی جاتی ہے جن کا وزن خطرناک حد تک بڑھ چکا ہو اور ان کا ’باڈی ماس انڈیکس‘ 40 یا اس سے زیادہ ہو۔



















