آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ڈونلڈ ٹرمپ کا صدمہ کیسے برداشت کیا جائے؟
- مصنف, ہیری لو
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب سے کچھ امریکیوں کو اسی طرح دھچکا لگا جس طرح بریکسٹ ریفرنڈم کے بعد ان برطانوی ووٹروں کو لگا تھا جو یورپی یونین کے ساتھ رہنا چاہتے تھے۔ لیکن ان برطانوی ووٹروں نے اس صدمے سے عہدہ برآ ہونے کے لیے طریقے ڈھونڈ لیے تھے۔ تو اپنے امریکی ساتھیوں کو اپنے دکھ سے نپٹنے کے لیے کیا ٹوٹکے بتائیں گے؟
روی پالنسامی ایسے ہی برطانوی ووٹروں میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے جون کے بریکسٹ ریفرینڈم کے بعد کی صبح کو یاد کرتے ہوئے کہا: ’میں ابتدائی طور پر صدمے میں تھا۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ ایسا ہونے جا رہا ہے۔ مجھے فوری طور پر احساس ہوا کہ میں جس ملک میں رہتا ہوں اور اسے ترقی پسند، کثیرالنسلی، روادار اور بین الاقوامی سوچ رکھنے والا سمجھ رہا ہوں وہ صرف لندن ہے، برطانیہ مجموعی طور پر نہیں۔ یہ ایک پریشان کن بات تھی۔‘
لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ان کا ذہن اس کو ماننے پر آمادہ ہوتا گیا۔
’یہ ایسا ہی تھا جیسے کوئی کسی کی وفات پر غم سے دوچار ہو۔ اس کے بھی مختلف مراحل ہوتے ہیں۔ اس دن یہ ایک دھچکا تھا اور ایک ناقابلِ یقین بات تھی لیکن پھر جلد ہی میں نےبہت پڑھا اور اس کی منطق دیکھنے اور اس کو سمجھنے کی کوشش کی۔‘
اسی طرح برطانیہ کے یورپی یونین کے حق میں ووٹ ڈالنے والے ایک ووٹر لیوک جونز اس نتیجے پر پہنچے کے کام اور سیروسیاحت اس دکھ کو بھولنے کے لیے ایک مفید نسخہ ہے۔
’میں نے بریگسٹ کے نتائج کے دکھ سے نبردآزما ہونے کی کوشش میں میں نے ان نوجوانوں سے بات چیت کی جن کے ساتھ میں کام کرتا ہوں۔ مجھے ایسا لگا کہ ان میں سے ایک بڑی تعداد یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ یہ کیسے ہوا۔ اس سے مجھے مستقبل کے بارے میں ایک امید نظر آئی۔‘
ایلس فرمر ہیسکیتھ بریکسٹ ووٹ کے بعد قائم ہونے والے گروپ کامن گراؤنڈ کی ڈائریکٹر ہیں جس کا کام برطانیہ کو بریکسٹ کے نقصانات سے بچانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے جو سبق سیکھا ہے وہ یہ ہے کہ ان لوگوں سے مکالمے کی اہمیت ہے جو آپ سے مختلف سوچتے ہیں۔
ماہر نفسیات جیمز اولیور کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنے حصار سے باہر آکر دیکھنا چاہیے جس سے ہمہیں یہ تسلیم کرنے میں مدد ملے گی کہ ہمارے خیالات غلط بھی ہو سکتی ہیں اور یہ کہ صورتِ حال اس سے بہت بہتر ہے جیسی نظر آتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آزمودہ ٹوٹکے
٭ اس موضوع سے متعلق پڑھیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کے دوسرے لوگوں نے آپ کے مختلف ووٹ کیسے دیا۔
٭ اس بات پر توجہ دیں کہ آپ کو اپنے دوستوں اور خاندان والوں سے کتنا پیار ہے۔
٭ سخت محنت کریں اور سیر و سیاحت کے لیے جائیں۔
٭ اپنے حصار سے باہر آئیں اور ان لوگوں سے بات چیت کریں جو آپ سے مختلف سوچتے ہیں۔
٭آپنے خیالات پر سوالات اٹھائیں اور یہ قبول کریں کہ ہو سکتا ہے کہ درحقیقت آپ کا علم سب سے اعلیٰ نہ ہو۔
٭ اس بات کو مانیں کہ مسئلہ آپ کے کنٹرول سے باہر ہے۔
٭ وہ کچھ کریں جس سے آپ کو سکون ملے۔