حلب کی جنگ آخری مرحلے میں، ’باغیوں کے کنٹرول میں 10 فیصد علاقہ‘

حلب

،تصویر کا ذریعہAFP

وقت اشاعت

شام کی ریاستی میڈیا اور شامی کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی سکیورٹی فورسز نے جنوبی حلب میں اہم پیش قدمی کی ہے اور شامی باغیوں کے زیر قبضہ اب چھوٹا سے حصہ رہ گیا ہے۔

شامی فوج اور اتحادی ملیشیا نے شیخ سعید اور صالحین کے اضلاع پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق شامی باغیوں کا 90 فیصد حلب پر سے کنٹرول ختم ہو گیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق حلب کے محاصرے کے باعث دسیوں ہزاروں افراد شہر میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کے پاس نہ تو پانی ہے اور نہ خوراک۔

شامی حکومت کے اتحادی روس کا کہنا ہے کہ حلب میں لڑائی کے باعث ایک لاکھ شہری بے گھر ہوئے ہیں جن میں 13 ہزار تین سو شہری گذشتہ 24 گھنٹوں میں بے گھر ہوئے ہیں۔

روس کا مزید کہنا ہے کہ دو ہزار دو سو باغیوں نے ہتھیار ڈالے ہیں۔

شامی صدر بشار الاسد کے خلاف 2011 میں بغاوت کے آغاز سے قبل حلب شام کا ایک بڑا شہر تھا جس کو تجارتی اور صنعتی اہمیت حاصل تھی۔

گذشتہ چار سالوں میں حلب شہر دو حصوں میں بٹا ہوا تھا جس میں شہر کا مغربی حصہ شامی حکومت کے کنٹرول میں تھا اور مشرقی حصہ باغیوں کے کنٹرول میں۔

شامی فوج نے ایرانی ملیشیا اور روسی فضائی بمباری کی مدد سے ستمبر میں بڑا حملہ کیا۔

پیر کے روز سرکاری خبر رساں ایجنسی نے فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ شامی فوج نے شیخ سعید، شہادن، کرم العفندی، کرمالدادا اور صالحین کے اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے۔

حلب

،تصویر کا ذریعہAFP

ذرائع نے مزید بتایا کہ فوج مشرقی حلب کے دیگر اضلاع میں پیشقدمی کر رہی ہے اور باغیوں پو دباؤ بڑھا رہی ہے۔

برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نہ شیخ سعید اور صالحین پر سے باغیوں کے قبضے کے ختم ہونے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم اس کا کہنا ہے کہ کرمالداد اور فردوس کے اضلاع میں لڑائی جاری ہے۔

اس تنطیم کے ڈائریکٹر عبدالرحمان نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ بہت چھوٹا علاقہ باغیوں کے کنٹرول میں رہ گیا ہے اور یہ علاقہ بھی کسی وقت شامی فوج کے قبضے میں آ سکتا ہے۔ 'حلب کی جنگ اپنے آخری دور میں داخل ہو گئی ہے۔'

بی بی سی کے ایک پروگرام سے بات کرتے ہوئے انگریزی زبان کے استاد نے بتایا کہ باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں صورتحال بہت خراب ہے۔

عبدالکافی الحمادو نے مزید بتایا 'مشرقی حلب میں قیامت کا سماں ہے۔ ہر جگہ بم گر رہے ہیں اور لوگ بچنے کے لیے بھاگ رہے ہیں۔ سڑکوں پر لوگ زخمی پڑے ہیں اور کسی میں ہمت نہیں کہ وہ زخمیوں کی مدد کے لیے جائیں۔ اور کچھ لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔'

دوسری جانب روس نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کے شرائط پر بات چیت کر رہا ہے جس میں حلب سے باغیوں کا انخلا شامل ہے۔ تاہم ابھی تک کسی قسم کے معاہدے کے آثار نہیں ہیں۔