پولینڈ میں آزادیِ صحافت کے لیے مظاہرے

پولینڈ

،تصویر کا ذریعہAP

وقت اشاعت

پولینڈ‌ کے دارالحکومت وارسا میں پارلیمان کی عمارت میں داخلے کے لیے صحافیوں کی تعداد محدود کی تجویز کے خلاف مظاہرے تیسرے روز بھی جاری ہیں۔

مظاہرین پارلیمان کی عمارت کے سامنے جمع ہیں جہاں جمعے سے حزب اختلاف کے ارکان پالیمان دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

حکومت کے حامی مظاہرین بھی وارسا میں مظاہرہ کریں گے۔

اتوار کو پولش صدر اندژی دودا کی حزب اختلاف کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقات متوقع ہے۔ ان کی حمایت حکمران جماعت کے ساتھ ہے لیکن انھوں نے مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔

سنیچر کو صحافیوں نے پالیمان کے ایوان بالا کے سپیکر سے نئے قوانین کے بارے میں بات چیت کے لیے ملاقات کی تھی۔

اگرچہ یہ ملاقات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکی تاہم ایسے اشارے ملے ہیں کہ پیر کو طے پانے والی ملاقات میں کوئی معاہدہ سامنے آجائے گا۔

پولش وزیراعظم بیتا شیدلو نے ٹی وی پر اپنے خطاب میں کہا ہے کہ نئے قوانین کے خلاف پالیمان کے سامنے ارکان پارلیمان کا مظاہرہ 'اہانت آمیز' ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو احتجاج کی اجازت ہے لیکن انھیں دوسرے لوگوں کے خیالات کا بھی احترام کرنا ہوگا۔

حزب اختلاف کے ارکان پارلیمان کا کہنا ہے کہ حکمراں لا اینڈ جسٹس پارٹی پالیمان میں صحافیوں کی تعداد کو محدود کرنے کے منصوبے سے آزادی صحافت کو دبانا چاہتی ہے۔

پالیمان کی عمارت میں داخل ہونے والے صحافیوں کی تعداد کو محدود کرنے کے ساتھ ساتھ صرف پانچ پولش ٹی وی چینلز کو پارلیمان اجلاس نشر اور ریکارڈ کرنے کی اجازت ہوگی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے خیال میں یہ اقدامات محدود کرنے کے زمرے میں نہیں آتے۔

پولینڈ

،تصویر کا ذریعہEPA

دوسری جانب حزب اختلاف آئندہ سال بجٹ کے لیے حکومتی ارکان کی جانب سے ووٹنگ کو بھی چیلنج کر رہی ہے جو مرکزی ہال کے بجائے ایک چھوٹے ہال میں صحافیوں کی غیرموجودگی میں کی گئی تھی۔

سنہ 1989 میں جمہوریت کی بحالی کے بعد ملک میں پہلی مرتبہ اس قسم کی ووٹنگ پالیمان کے مرکزی چیمبر میں نہیں ہوئی۔

حزب اختلاف کے کچھ مظاہرین نے آئینی عدالت کے باہر بھی مارچ کیا اور اس کے کام کر سراہا۔

حکمراں لا اینڈ جسٹس پارٹی اس کے اختیارات کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کی وجہ سے اسے پولینڈ کے یورپی یونین کے پارٹنرز کی جانب سے تنقید کا بھی سامنا ہے۔