شام میں روسی بمباری میں غلطی سے تین ترک فوجی ہلاک، پوتن کی تعزیت

شام

،تصویر کا ذریعہRex Features

،تصویر کا کیپشنروس کے حکام کے مطابق صدر پوتن نے ترک صدر کو فون کرکے اس 'المناک' واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے
وقت اشاعت

شام میں روسی فضائی حملے میں غلطی سے ترک فوجیوں کی ہلاکت پر روس کے صدر ولادی میرپوتن نے اپنے ترک ہم منصب کو فون کر کے تعزیت کی ہے۔

فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے تین ترک فوجی شمالی شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ شہر الباب کو آزاد کروانے کے لیے لڑنے والے باغیوں کی مدد کر رہے تھے۔

ترکی اور روس اگرچہ شام کی جنگ میں مخالف دھڑوں کی حمایت کرتے ہیں لیکن دونوں دولتِ اسلامیہ کے خلاف مل کر کارروائی کر رہے ہیں۔

ترک افواج کے مطابق روسی فضائیہ کے جہاز نے الباب شہر کے قریب ایک عمارت کو نشانہ بنایا جہاں ترک فوج تعینات تھے جس کے نتیجے میں تین فوجی ہلاک ہوگئے۔

جمعرات کو پیش آنے والے اس واقعے میں گیارہ ترک فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ترک افواج کے مطابق روسی جہاز دولتِ اسلامیہ کو نشانہ بنا چاہتے تھے اور ترک فوجی غلطی سے بمباری کا نشانہ بن گئے۔

روس ترکی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندونوں رہنماؤں نے شام میں شدت پسندوں کے خلاف مل کر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا

روس کے حکام کے مطابق صدر پوتن نے ترک صدر کو فون کرکے اس ’المناک‘ واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر پوتن نے صدر اردوغان کو بتایا کہ یہ حادثہ دونوں ممالک کے درمیان شام کے معاملے پر تعاون کے فقدان کے باعث پیش آیا ہے۔

روسی خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے شام میں شدت پسندوں کے خلاف مل کر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

دوسری جانب ترک افواج کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک مل کر اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ روس اور ترکی اس سال کے اوائل سے الباب کے علاقے میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف مشترکہ فضائی کارروائی کر رہے ہیں۔