شام میں دفاعی اہمیت کا حامل قصبہ طبقہ دولتِ اسلامیہ سے آزاد کروا لیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP
شامی کردوں اور عرب جنگجوؤں کے ایک اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ دفاعی اہمیت کا حامل قصبہ آزاد کروا لیا ہے۔
سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے کہا ہے کہ انھوں نے دولتِ اسلامیہ کے مرکز رقہ سے 40 کلومیٹر دور واقع طبقہ نامی قصبے اور اس سے ملحقہ ڈیم کو 'مکمل طور پر آزاد' کروا لیا ہے۔
یہ اعلان امریکہ کی جانب سے اس فیصلے کے ایک دن بعد آیا ہے کہ امریکہ ایس ڈی ایف کے ساتھ مل کر لڑنے والی کرد جنگجو تنظیم وائی پی جی کو دفاعی سامان اور اسلحہ دے گا۔
ترکی اس فیصلے پر برہم ہے۔ وہ وائی پی جی کو ممنوعہ کرد تنظیم پی کے کے کی توسیع سمجھتا ہے، جو گذشتہ تین دہائیوں سے ترکی سے علیحدگی کی جنگ لڑ رہی ہے۔
صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ جہادیوں کے ساتھ جنگ میں 'ایک اور دہشت گرد تنظیم' کو نہیں شامل کرنا چاہیے۔
تاہم امریکہ کو اس سے اختلاف ہے اور اس کا اصرار ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے گڑھ رقہ پر قبضے کے لیے وائی پی جی ضروری ہے۔
وائی پی جی ایس ڈی ایف کے اتحاد کی قیادت کرتا ہے جس نے گذشتہ دو برسوں میں شمالی شام میں شدت پسندوں کے قبضے سے چھ ہزار کلومیٹر کا علاقہ آزاد کروا لیا ہے۔ اس دوران اسے امریکی فضائی حملوں کی امداد حاصل رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل پینٹاگان ایس ڈی ایف کے عرب عناصر کو اسلحہ فراہم کر چکا ہے۔
وائی پی جی کے ترجمان رید الخلیل نے کہا کہ امریکی فیصلہ دولتِ اسلامیہ سے لڑنے والی تمام تنظیموں کو تقویت دے گا، تاہم اسے آتے آتے 'کسی قدر تاخیر ہو گئی ہے۔'

،تصویر کا ذریعہReuters
بی بی سی ورلڈ سروس کے مشرقِ وسطیٰ کے ایڈیٹر ایلن جانسٹن کہتے ہیں کہ اگر ایس ڈی ایف کا طبقہ پر قبضے کا دعویٰ درست ہے تو اس سے رقہ جانے کے لیے اہم راستہ کھل جائے گا۔
اس قصبے میں کئی ہفتوں سے شدید جھڑپیں جاری ہیں اور دولتِ اسلامیہ کے خودکش حملہ آور اور نشانہ باز سخت مزاحمت کر رہے ہیں۔
وہ قصبے کے شمالی علاقے اور قریبی ڈیم میں چھپے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر اس ڈیم کو نقصان پہنچا تو علاقے میں سیلاب آ سکتا ہے۔
ایس ڈی ایف کے ترجمان طلال سیلو نے تسلیم کیا کہ قصبے کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کے لیے تلاشی کی کارروائیاں جاری ہیں۔



















