بحرِ اوقیانوس پر پرواز کے دوران طیارے کا انجن فیل

،تصویر کا ذریعہDAVID REHMAR
ایئرفرانس کے طیارے کو اس وقت اپنا رخ فرانس کے بجائے لاس اینجلس کی جانب موڑنا پڑا جب دوران پرواز بحرِ اوقیانوس سے گزرتے ہوئے اس کے انجن کا ایک حصہ فیل ہو گیا۔
سنیچر کو گرین لینڈ کے مغرب میں ایئر بس اے 380 کی پرواز اے ایف 66 کے چار میں سے ایک انجن نے کام کرنا چھوڑ دیا۔
اس حادثے میں کوئی بھی مسافر یا عملے کا رکن زخمی نہیں ہوا تاہم مسافر گرینج کے مقامی وقت کے مطابق تین بج کر 42 منٹ پر طیارے کے لینڈ کرنے کے کئی گھنٹے بعد بھی طیارے میں ہی رہے۔
ایئر فرانس کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ طیارے میں کل 496 مسافر اور عملے کے 24 ارکان سوار تھے۔
ڈیوڈ رہمر ایک سابقہ ایئر کرافٹ مکینک ہیں وہ بھی بطور مسافر اس طیارے میں موجود تھے۔ بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ میرے مشاہدے کے مطابق حادثے کی وجہ فین کی خرابی تھی۔
'ہم نے ایک اونچی آواز سنی، اور یہ تھرتھراہٹ تھی جس کی وجہ سے میں نے سوچا کہ انجن فیل ہو گیا ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتے ہیں کہ کچھ لمحوں کہ لیے تو مجھے یوں لگا کہ ہم نیچے جا رہے ہیں۔
پائلٹ نے پھرتی سے متاثرہ انجن کو بند کر دیا۔
یہ جہاز تقریباً ایک گھنٹے تک تین انجنوں پر پرواز کرتا رہا اور پھر مشرقی کینیڈا میں لیبراڈور کے گوس بے نامی ہوائی اڈے پر اترا۔
مسافروں کی جانب سے لی جانے والی طیارے کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انجن کا بالائی حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے اور اس کے پر کی سطح بھی متاثر ہوئی ہے۔
مسافروں کو کچھ گھنٹے جہاز کے اندر ہی گزارنے پرے کیونکہ ہوائی اڈے پر اس طیارے کے لیے انتظامات نہیں تھے۔
ڈیوڈ رہمر نے بتایا کہ مسافروں کو مطلع کیا گیا تھا کہ مونٹریال سے ایئر فرانس 777 کے دو طیارے انھیں لینے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہDAVID REHMAR
انھوں نے کہا کہ اس حادثے کی وجہ پرندے کا جہاز سے ٹکرانا نہیں تھی کیونکہ اتنی بلندی پر ایسا ممکن نہیں ہوتا اور ان کا تجربہ کہتا ہے کہ فرنٹ انجن پر موجود بیرونی پنکھے کے بلیڈز کام کرنا چھوڑ گئے تھے۔ مگر ابھی یہ واضح نہیں کہ اصل وجہ کیا تھی۔
اپنے بیان میں ائیر فرانس نے بھی طیارے کے ایک انجن کو 'شدید نقصان' پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عملے نے اس حادثے سے بہترین طریقے سے نمٹا۔
طیارے میں موجود ایک اور مسافر رک انگرسٹن نے بی بی سی کو بتایا کہ عملہ کئی گھنٹوں سے نہایت تندہی سے کام کر رہا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ انھیں کھانا فراہم کیا جا رہا ہے اور طیارے کے کپتان نے مسافروں کے پاس جا کر ان سے بات کی۔





















