کرائمیا کے ایک کالج میں فائرنگ سے کم از کم 19 افراد ہلاک

Scene of Crimea school shooting, 17 October 2018

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنحکام اس واقعے کی تحقیقات بڑے پیمانے پر قتل کی واردات کے طور پر کر رہے ہیں
وقت اشاعت

روس سے الحاق کرنے والے خطے کرائمیا کے ایک کالج میں فائرنگ سے کم از کم 19 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ حملہ، کرائمیا کے شہر کریچ میں واقع ایک تکنیکی کالج میں ہوا۔

عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ سے قبل کسی نامعلوم چیز کا دھماکہ بھی سنا گیا۔

روس کے تفتیش کاروں کے مطابق ایک 18 سالہ طالب علم نے دوسرے طلبا پر فائرنگ کے بعد خود کو گولی مار دی۔

2014 میں روس نے یوکرائن کے علاقے کرائمیا کا انتظام سنبھال لیا تھا۔ اس الحاق پر روس کو مغرب سے بھی بہت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسی بارے میں

تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ویلادیسلیو روسلےیاکوف نامی اس حملہ آور نے کینٹین کے قریب سے حملہ شروع کیاۓ وہ باری باری کمروں میں جاتا اور گولیاں برساتا ہا۔ اس کے بعد اس نے خود کو گولی مار دی۔

روس کے ذرائع ابلاغ میں آنے والی تصاویر میں روسلےیاکوف کی لاش کالج لائبریری کے سامنے دیکھی جا سکتی ہے۔

حملے کے ایک عینی شاہد اگور زخریویسکی کینٹین میں تھے۔ انہوں نے بی بی سی روسی سروس کو بتایا، ’میں وہاں موجود تھا، جہاں پہلا دھماکہ ہوا۔ کینٹین کے دروازے کے قریب، جہاں کھانا تھا۔ میں صدمے میں تھا اور میرے ساتھیوں نے مجھے دھکیل کر وہاں سے ہٹایا۔‘

Scene of Crimea school shooting, 17 October 2018

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنتعلیمی اداروں کے باہر نیشنل گارڈ کے اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں

اس کے بعد میں نے گولیاں چلنے کی آواز سنائی، ایک اور دھماکے کی آواز تھوڑی دیر سے آئی۔

شہر کی سیکورٹی فورسز کے سکواڈ کو تمام سکولوں میں تعینات کر کے انھیں خالی کروا لیا گیا ہے۔

پہلے اس واقعے کو 'دہشت گردی‘ قرار دیا گیا تھا تاہم اب کمیٹی اب ایک بڑے پیمانے پر قتل کے طور پر اس کی تحقیقات کر رہی ہے۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اسے ’المناک واقعہ‘ قرار دیا اور ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔

کرائمیا میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔