ایران ٹرمپ کے جانے کا انتظار کر رہا ہے؟

امریکی سینیٹر الزبیتھ وارن

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنالزبیتھ وارن جیسے ممکنہ صدارتی امیداواروں کو یا بات تسلیم کرنی ہوگی کہ موجودہ معاہدے میں دوبارہ داخل نہیں ہوا جا سکتا
وقت اشاعت

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات ہو چکے۔ اب سنہ 2020 میں ہونے والے صدارتی انتخاب کی مہم کا آغاز ہو گا اور ایسے میں امریکہ کے سابق نائب سیکریٹری خارجہ کے پاس صدارتی امیدواروں کے لیے ایران سے متعلق حکمت عملی بنانے کے کچھ مشورے ہیں:

سنہ 2016 میں اپنی صدارتی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کو ’بدترین‘ معاہدہ قرار دیا تھا۔

ٹرمپ کی قومی سلامتی کی ٹیم نے انھیں اس ڈیل کو ختم نہ کرنے اور اس میں بہتر شرائط کو شامل کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن انھوں نے یہ معاہدہ ختم کر دیا۔ یہ معاہدہ اوباما کی خارجہ پالیسی کی ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

گذشتہ ہفتے ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ بات چیت ختم ہو چکی ہے اور اور ایران کو سیاسی اور اقتصادی طور پر تنہا کیا جا رہا ہے۔ بڑے پیمانے پر لگائی گئی ان پابندیوں میں توجہ ایران کے توانائی، بینکاری، تجارت اور جہاز سازی کے شعبوں پر مرکوز ہے۔

امریکہ کا مقصد ایران کے ان وسائل کو روکنا ہے جس کی بنیاد پر وہ مشرق وسطیٰ میں ایک ایسا کردار ادا کر رہا ہے جو امریکہ کے خیال میں مددگار نہیں ہے، خاص طور پر شام اور یمن میں ایران کا کردار۔ مقصد اس کا یہ ہے کہ ایران کو اتنا مجبور کر دیا جائے کہ وہ جوہری معاہدے پر نئی شرائط کے لیے رضامند ہو جائے۔

ایران احتجاج

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنایران میں امریکی پابندیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ سخت گیر موقف رکھنے والے ان مظاہرین کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت بھی کی گئی۔

امریکی سیکریٹری خارجہ کہہ چکے ہیں کہ ایران ’انقلاب کا راستہ ترک کر دے۔‘

لیکن گذشتہ چار دہائیوں سے لگنے والی پابندیاں ایران کو اس راستے سے نہیں ہٹا سکی ہیں اور امکان یہی ہے کہ اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوگا۔

چین اور روس کی حمایت یافتہ یورپی حکومتیں شاید ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھ کر ان پابندیوں کا اثر کم کرنے کی کوشش کریں لیکن اس سوچ میں تبدیلی آئی ہے کیوںکہ ڈنمارک نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ان کی سرزمین پر ایک گروہ کے ارکان کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ایران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

ٹرمپ نے نجی شعبے کا بہت درست مطالعہ کیا ہے اور کئی بین الاقوامی کمپنیاں پہلے ہی ایران کے ساتھ کاروبار کرنے سے پیچھے ہٹ چکی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ان کے سامنے یہ کہہ کر کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑا کہ یا وہ ایران کے ساتھ کاروبار کر لیں یا پھر امریکہ کے ساتھ۔۔

جوہری معاہدے سے امریکہ کے نکل جانے کے باوجود ایران معاہدے کی شرائط پر عمل کر رہا ہے جس کی ایک بڑی وجہ یورپی رہنماؤں کی مؤثر سفارتکاری ہے۔

ایران کی خارجہ پالیسی میں کوئی بڑی یا واضح تبدیلی نظر نہیں آ رہی، لیکن ٹرمپ کی جوہری معاہدے سے متعلق حکمت عملی سے کیا امریکہ اپنی شرائط پر ایک بہتر معاہدہ کر سکے گا؟ ایسا ٹرمپ کے دور میں ہوتا ممکن نظر نہیں آتا۔

صدر ٹرمپ ’فتح‘ کے خواہاں ہیں لیکن ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنئی انھیں یہ دیں گے نہیں۔

ایران فی الحال جھکے گا نہیں

سابق امریکی صدر براک اوباما

،تصویر کا ذریعہBrooks Kraft

،تصویر کا کیپشنبراک اوباما کہتے تھے کہ وہ ایران کے ساتھ دو طرفہ مفاد اور احترام کی شرط پر بات کرنے کو تیار ہیں

کیا آپ کو سنہ 1980 یاد ہے؟ 444 دن تک یرغمال رکھے گئے امریکیوں کے واقعے نے اس وقت کے صدر جمی کارٹر کی صدارت کو ناصرف دھچکا پہنچایا بلکہ اگلے انتخاب میں ان کی شکست کی وجہ بھی بنا۔

ایران نے 52 سفارت کاروں اور شہریوں کو اس وقت تک رہا نہیں کیا جب تک رونلڈ ریگن نے صدارت نہ سنبھال لی۔

براک اوباما کہتے تھے کہ وہ ایران کے ساتھ دو طرفہ مفاد اور احترام کی شرط پر بات کرنے کو تیار ہیں۔

ٹرمپ نے بظاہر یہی رویہ شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت میں اپنایا ہے لیکن ایران کی طرف ان کا رویہ سخت ہے۔

امریکی پابندیوں سے ایران کی معیشت پر فرق پڑے گا اور اس کو تیل بیچنے میں بھی مشکلات ہوں گی لیکن تہران انتظار کرے گا اور دیکھے گا کہ 2020 کے صدارتی انتخاب میں مسٹر ٹرمپ کا کیا ہوتا ہے۔

اس انتخاب میں ٹرمپ کے ممکنہ مخالفین، جیسا کہ سینیٹر کرس مرفی، کمالہ ہارس، الیزبیتھ وارن، کرسٹن گلیبرینڈ اور کوری بُکر، کانگریس کی ان کمیٹیوں کے رکن ہیں جو ٹرمپ کی ایران سے متعلق حکمت عملی کی نگرانی کرتی ہیں۔

صدارتی امیداواروں کی اس فہرست میں اضافہ ہوگا۔

ان امیدواروں کی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ امریکہ کے مخالفین، مثلاً روس، شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ حقیقت پسندانہ طریقے سے بات چیت کریں۔

ڈیموکریٹس ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے نکلنے اور اس کے نتیجے میں اسرائیل کے علاوہ امریکہ کے اہم اتحادیوں سے تعلقات میں تناؤ پیدا کرنے کی وجہ سے ٹرمپ پر تنقید کر سکتے ہیں۔

لیکن ایران کے ساتھ موجودہ معاہدے میں دوبارہ داخل ہونا کسی بھی امریکی صدر کے سیاسی طور پر ایسا قدم ہوگا جو جو کوئی بھی اٹھائے گا۔

ایران میں بھی سیاست ہے

ایران

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایرانی صدر نے کہا ہے کہ ایران تیل کی فروخت جاری رکھے گا

ایران میں بھی بعض حلقے کہتے ہیں کہ یہ معاہدہ برا تھا کیوںکہ اس نے ان تمام مسائل کو ختم نہیں کیا جو بین الاقوامی برادری کو ایران کے ساتھ ہیں۔ ان حلقوں کے لیے ایسا کہنا سیاسی طور پر خاصا مؤثر ہے۔

ناقدین جو اقتدار میں تبدیلی سے کم پر آمادہ نہیں ہوں گے، دوبارہ یہ دعویٰ کریں گے کہ پابندیاں ہٹانے سے مذہبی حکمرانوں کو سیاسی اور اقتصادی ایک نئی زندگی ملی تھی۔

لیکن ٹرمپ کا دور ایسا ایک دور ہے جس میں حقائق کے پرواہ کم ہی کی جا رہی ہے۔

ٹرمپ نے غلط وجوہات کی بنا پر غلط راستہ اپنایا ہے لیکن ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ ٹرمپ کی اس حکمت عملی سے امریکہ کو ایک طرح کی برتری حاصل ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اس سیاسی مساوات میں امریکہ کے اندر کی صورتحال ایک اہم حصہ ہے لیکن ایران میں ہونے والی سیاست بھی معنی رکھتی ہے۔

ایران میں 2021 میں ایک نیا صدر ہوگا۔ ان پابندیوں کے تین برس بعد تہران بے چین ہوگا کہ وہ اپنے عوام کے لیے نئے اقتصادی مواقع پیدا کرے۔

امریکہ میں عوام کی خواہشات کی طرح ایرانی بھی اپنی حکومت سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ باہر کے بجائے گھر کے مسائل پر توجہ دے۔

اس لیے ایران کے مفاد میں ہے کہ وہ ایسے کسی شخص کے ساتھ دوبارہ سے مذاکرات کرے جس کا نام ٹرمپ نہ ہو۔

ان تمام وجوہات کی وجہ سے نیا امریکی صدر ایک ایسی پوزیشن میں ہوگا کہ وہ نئی شرائط کے ساتھ ایران سے ایک جامع معاہدہ کر لے جس میں دیگر مسائل کے ساتھ ایران کی میزائل صلاحیت بھی شامل ہو۔

ایران سے جڑی سیاست ہر جانب سے بہت پیچیدہ ہے لیکن ایک ایسی حکمت عملی جو سب کو قابل قبول اور وہاں سے شروع ہو جہاں ٹرمپ دور کا اختتام ہو تو اسے گھر اور باہر دونوں جگہ پزیرائی حاصل ہو سکتی ہے۔

ایک نئی ڈیل ممکن ہے لیکن اسے ایک نیا صدر ہی ممکن بنا سکتا ہے۔

مصنف: پی جے کرولی، سابق امریکی نائب سیکریٹری خارجہ ہیں جو Red Line: American Foreign Policy in a Time of Fractured Politics and Failing States کے مصنف ہیں۔

Presentational grey line