بہاولنگر میں یوم عاشور کے جلوس پر گرینیڈ حملہ: دو افراد ہلاک، 35 زخمی

،تصویر کا ذریعہGhulam Hasan Mehar
پاکستان میں صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر بہاولنگر میں دس محرم کے ماتمی جلوس پر ہونے والے گرینیڈ حملے میں دو افراد ہلاک جبکہ 35 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی پولیس ذرائع نے نمائندہ بی بی سی عمر دراز کو بتایا کہ بہاولنگر میں امام بارگاہ جامعتہ الزہرہ سے برآمد ہونے والے یوم عاشور کا مرکزی جلوس اپنے روایتی راستے پر رواں دواں تھا جب یہ واقعہ پیش آیا۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اس واقعے پر پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
پنجاب کے صوبائی وزیر زکوٰۃ و عشر شوکت علی لالیکا نے ڈسٹرکٹ ہسپتال بہاولنگر کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے جبکہ ایک بچی کی حالت تشویشناک ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس واقعے میں زخمی ہونے والے کم از کم 35 افراد کو طبی امداد کے لیے ہسپتال لایا گیا ہے۔
شوکت لالیکا اور عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ حملہ اس وقت ہوا جب جلوس اپنے مقررہ راستے سے ہوتا ہوا شہر کی جیل روڈ پر ایک مسجد کے نزدیک پہنچا۔

،تصویر کا ذریعہGhulam Hasan Mehar
بی بی سی نے واقعے کی مزید تفصیل جاننے کے لیے بہاولنگر کے پولیس حکام اور مقامی انتظامیہ کے اعلی عہدیداروں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم متعدد کوششوں کے باوجود کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
مقامی صحافیوں کے مطابق ماتمی جلوس میں درجنوں عزادران شامل تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دھماکے کے فوری بعد امدادی ٹیمیں جائے موقع پر پہنچ گئی اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور مقامی پولیس کے مطابق حملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
پولیس نے ایک ایسے مشتبہ شخص کو حراست میں لیا ہے جسے اس واقعے کے بعد عزاداران نے پکڑا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGhulam Hasan Mehar
اس حملے کے بعد جلوس میں شامل افراد نے انتظامیہ اور پولیس کے خلاف مکمل سکیورٹی فراہم نہ کرنے پر احتجاج شروع کیا اور الزام عائد کیا کہ پولیس نے مطالبے کے باوجود مکمل سکیورٹی فراہم نہیں کی۔
جلوس میں شامل ایک عینی شاہد نے مقامی میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ جب جلوس ایک مسجد کے قریب پہنچا تو پولیس اور انتظامیہ کا کوئی اہلکار قریبی یا مسجد کی چھتوں پر موجود نہیں تھے اور اسی اثنا میں جلوس کے شرکا پر دو ہینڈ گرینیڈ پھینکے گئے۔
انھوں نے کہا کہ انھیں اپنے پیاروں کی صحیح اطلاعات نہیں مل رہی ہیں کیونکہ موبائل فون کے سگنلز نہیں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جلوس کے شرکا نے واقعے کے بعد دو مشتبہ افراد کو پکڑ کر حوالہ پولیس کیا ہے۔
ایک اور عینی شاہد نے کہا کہ اس موقع پر انتظامیہ چھپی ہوئی تھی اور اس واقعے کے بعد بھی کوئی تعاون نہیں کر رہی۔




















